حدیث نمبر: 2539
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فِي مَنْزِلِهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ، قَالَ: لَا، بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ فَأَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: مَا أَرَدْتَّ إِلَى خَلْعِهِمَا؟ أَبِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ أَنْتَ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْخُفَّيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گیا، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے مجھے کہا: ابوعبد الرحمن! آگے بڑھو(اور نماز پڑھاؤ)کیونکہ تم زیادہ عمر والے اور زیادہ علم والے ہو، لیکن میں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ خود آگے بڑھیں، کیونکہ ہم آپ کے پاس، آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لیے آپ زیادہ حقدار ہیں، پس سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انھوں نے اپنے جوتے اتار دیئے، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا: آپ نے جوتے کیوں اتارے ہیں؟ کیا آپ وادیٔ مقدس میں ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزے اور جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2539
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، لم يسمع ابو اسحاق السبيعي من علقمة، لكن تابعه ابو الاحوص، وسماع زھير من ابي اسحاق السبيعي بعد الاختلاط، لكنه متابع ايضا أخرجه مطولا ومختصرا ابن ماجه: 1039، وابن ابي شيبة: 2/ 417، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 9262، وأخرجه مختصرا الطيالسي: 395 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4397»