الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
باب: امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 2529
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا))، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ: ((لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ))، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسَمِعْتُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ مِثْلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک قریب ہے کہ تمہارے امور کے والی ایسے لوگ بن جائیں ، جو سنت کو مٹائیں گے، بدعتوں کو زندہ کریں گے اور نماز کو اس کے وقت سے لیٹ کر دیں گے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں ان کو پالوں توکیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام عبد کے بیٹے! اللہ کی نافرمانی کرنے والے شخص کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔