الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
باب: امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا))، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ؟ قَالَ: ((لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ! طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ))، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسَمِعْتُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ مِثْلَهُسیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک قریب ہے کہ تمہارے امور کے والی ایسے لوگ بن جائیں ، جو سنت کو مٹائیں گے، بدعتوں کو زندہ کریں گے اور نماز کو اس کے وقت سے لیٹ کر دیں گے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں ان کو پالوں توکیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام عبد کے بیٹے! اللہ کی نافرمانی کرنے والے شخص کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔