الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
باب: امام کے ضامن ہونے اور فاسق کی امامت کا بیان
عَنْ أَبِي عَلِيِّ الْهَمَدَانِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ وَمَعَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُمَّنَا، فَقَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ))ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نکلا، ہمارے ساتھ سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے، آپ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، اس لیے آپ ہمیں امامت کرائیں، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے لوگوں کی امامت کروائی اور صحیح وقت کا اہتمام کیا اور نماز کو مکمل طور پرادا کیا، تو اس کو بھی ثواب ملے گا ا ور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے ان امور میں کسی چیز کی کمی کی، تو اس کا گناہ اس امام پر ہوگا، نہ کہ مقتدیوں پر ۔