الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابُ الْحَثِّ عَلَى تَعْلِيمِ الْعِلْمِ وَآدَابِ الْمُعَلِّمِ باب: علم سکھانے پر رغبت دلانے اور معلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 252
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((عَلِّمُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعلیم دو اور خوشخبریاں سناو اور مشکلات پیدا نہ کرو اور جب کسی کو غصہ آ جائے تو وہ خاموش ہو جائے۔“
وضاحت:
فوائد: … معلم، مربیّ اور مبلغ کو حکیم اور دانا ہونا چاہیے اورلوگوں کی ذہنی سطح اور ان کے مزاج کا اندازہ کر کے ان سے گفتگو کرنی چاہیے۔ غصے کی حالت میں عام لوگوں کو اچھے بھلے کی تمیز نہیں رہتی اور وہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں، جن کی وجہ سے دلوں میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور خود بولنے والی کو بھی ندامت ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں خاموش رہنے کی تلقین کی ہے۔