الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْجَمَاعَةِ بِالسَّكِينَةِ باب: سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ فَقَالَ: ((مَا شَأْنُكُمْ؟)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: ((فَلَا تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا))سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کے حرکت کرنے کی آواز سنی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو ان کو بلایا اور پوچھا: تم کو کیا ہو گیا تھا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز کی طرف جلدی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کیا کرو ، جب تم نماز کی طرف آؤ تو سکون اور وقار کو لازم پکڑو، جو حصہ (باجماعت) پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے، اسے (بعد میں) پورا کر لو ۔