الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ فَضْلِ الْمَسْجِدِ الْأَبْعَدِ وَكَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ باب: دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: ((إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: ((يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارُكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارُكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ))(دوسری سند )سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کے ارد گرد کچھ جگہ خالی ہو گئی، اس لیے بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو سلمہ! اپنے گھروں کو لازم پکڑو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں کو لازم پکڑو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔