الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَنْعِهِنَّ مِنَ الْخُرُوجِ إِذَا خَشِيَ مِنْهُ الْفِتَنَ وَفَضْلِ صَلَاتِهِنَّ فِي بُيُوتِهِنَّ باب: جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان¤اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2504
عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى مِنَ النِّسَاءِ مَا رَأَيْنَا لَمَنَعَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ كَمَا مَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا، قُلْتُ لِعَمْرَةَ: وَمَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا؟ قَالَتْ: نَعَمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے وہ حالات دیکھ لیتے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں توان کو مسجدوں سے منع کر دیتے، جیسا کہ بنواسرائیل نے اپنی عورتوں کو روک دیا تھا۔ یحیی کہتے ہیں: میں نے عمرہ سے پوچھا کہ کیا واقعی بنو اسرائیل نے اپنی عورتوں کو منع کیا تھا۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔