الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَنْعِهِنَّ مِنَ الْخُرُوجِ إِذَا خَشِيَ مِنْهُ الْفِتَنَ وَفَضْلِ صَلَاتِهِنَّ فِي بُيُوتِهِنَّ باب: جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان¤اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى لِأَبِي رُحْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً، فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ: الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَيَقْبَلُ اللَّهُ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ))، فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِيسیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت کو ملے اوراس سے بڑی اچھی اور تیز اڑنے والی خوشبومحسوس کی، سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تو مسجد میں جانے کا ارادہ رکھتی ہے؟اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو نے اسی لیے خوشبو استعمال کی ہے؟ ا س نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت مسجد کے لیے خوشبو لگاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا، یہاں تک کہ وہ غسلِ جنابت کی طرح کا غسل نہ کر لے۔ اس لیے تو چلی جا اور غسل کر۔