حدیث نمبر: 2498
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ، قَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكَ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ لَكِ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي))، قَالَ: فَأَمَرَتْ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام حمید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!بے شک میں آپ کے ساتھ نمازپڑھنا پسند کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہے، لیکن تیرا (اپنی مخصوص) اقامت گاہ میں نماز پڑھنا (عام) کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (عام) کمرے میں نماز پڑھنا گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور گھر کے صحن میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنا میری اس مسجد ِ (نبوی) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ پھر اس عورت نے حکم دیا اور گھر کے ایک دور والے کونے اور اندھیرے والی جگہ میں ایک مسجد بنائی گئی، وہ اسی میں نماز پڑھتی تھی، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2498
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابن حبان: 2217، وابن خزيمة: 1689، وابن ابي شيبة: 2/ 384 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27630»