حدیث نمبر: 249
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمِ رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَمُدُّ نَاقَةً لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَتِكَ زَائِرًا، إِنَّمَا أَتَيْتُكَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ، فَرَآهُ شَعِثًا فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْبَلَدِ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ وَرَآهُ حَافِيًا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی، سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مصر میں تھے، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اونٹنی کو چارہ کھلا رہے تھے، آنے والے نے کہا: ”میں تمہیں ملنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پہنچی ہے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو گے،“ جب انہوں نے اس کو پراگندہ بالوں والا دیکھا تو پوچھا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تم کو پراگندہ بالوں والا دیکھ رہا ہوں، حالانکہ تم اس شہر کے امیر ہو؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زیادہ خوشحالی اور آسودگی سے منع کرتے تھے،“ نیز انہوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ انہوں نے جوتا پہنا ہوا نہیں تھا، انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بعض اوقات جوتا اتار دینے کا حکم دیا۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ صحابۂ کرام کے نزدیک فرموداتِ نبویہ کی عظمت تھی کہ حدیث کی خاطر مصر تک کا سفر کیا جا رہا ہے، حدیث ِ مبارکہ کے اگلے حصے سے معلوم ہوا کہ کبھی کبھار سادگی بھی اختیار کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 249
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح (سنن ابي داود) ۔ أخرجه ابوداود: 4160، وأخرجه النسائي: 8/ 185 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24469»