الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَفَضْلِ طَالِبِهِ باب: حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمِ رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَمُدُّ نَاقَةً لَهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَتِكَ زَائِرًا، إِنَّمَا أَتَيْتُكَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ، فَرَآهُ شَعِثًا فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْبَلَدِ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ وَرَآهُ حَافِيًا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًاعبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی، سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مصر میں تھے، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اونٹنی کو چارہ کھلا رہے تھے، آنے والے نے کہا: ”میں تمہیں ملنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پہنچی ہے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو گے،“ جب انہوں نے اس کو پراگندہ بالوں والا دیکھا تو پوچھا: ”کیا وجہ ہے کہ میں تم کو پراگندہ بالوں والا دیکھ رہا ہوں، حالانکہ تم اس شہر کے امیر ہو؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زیادہ خوشحالی اور آسودگی سے منع کرتے تھے،“ نیز انہوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ انہوں نے جوتا پہنا ہوا نہیں تھا، انہوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بعض اوقات جوتا اتار دینے کا حکم دیا۔“