الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَعْذَارِ الَّتِي تُبِيحُ التَّخَلُّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ باب: ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
حدیث نمبر: 2486
عَنْ مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَٰذَا؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً مَتَى تُوَافِقُهَا أُصَلِّي مَعَكَ وَمَتَى تُخَالِفُهَا أُصَلِّي وَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ (کی نماز سے) پیچھے رہتے تھے، (یعنی وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، ایک دن) عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا: تجھے کون سی چیز ایسا کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب تم اس نماز کی موافقت کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب تم اس کی مخالفت کرتے ہو تو میں (وقت پر) نماز ادا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔