الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَعْذَارِ الَّتِي تُبِيحُ التَّخَلُّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ باب: ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
حدیث نمبر: 2480
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي: مَنْ هَٰذَا؟ قَالُوا: أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوملیح بن اسامہ کہتے ہیں:بارش والی رات کو میں مسجد کی طرف گیا، (نمازِ عشاء پڑھ کر) واپس آیا اور دروازہ کھولنے کو کہا۔ میرے ابو جان نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابو ملیح ہے۔ انھوں نے کہا: ہم حدیبیہ کے موقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ (ہلکی سی) بارش ہوئی، اس سے ہمارے جوتوں کے نچلے والے حصے بھی نہیں بھیگے تھے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے کہا: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔