الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَفَضْلِ طَالِبِهِ باب: حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 248
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے گیا، انہوں نے کہا: ”کیوں آئے ہو؟“ میں نے کہا: ”حصولِ علم کے لیے،“ انہوں نے کہا: ”تو پھر کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناوں،“ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی: ”بیشک فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس چیز کی رضامندی کی خاطر جو وہ طلب کر رہا ہوتا ہے۔“
وضاحت:
فوائد: … یہ عظمتیں حاصل کرنے کے لیے جس قدر ممکن ہو، علمائے اسلام اور مبلغین علم اور عمل صالح کے ذریعے عظیم تر بننے کی کوشش کریں، حصول علم کے بعد دین کی تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مقصد اور مشن سمجھیں، اخلاص میں نکھار پیدا کریں، نمود ونمائش سے کنارہ کشی اختیار کریں، اس شعبے کو کسی مجبوری کا نتیجہ مت سمجھیں اور اس معاملے میں کسی دنیوی مقصد کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں، دنیا و آخرت کی رفعتیں اور برکتیں ایسے لوگوں کے لیے ہیں، کاش! ان برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس گُر ہوتے۔
حضرات! ذہن نشین کر لیں کہ مساجد و مدارس اور تبلیغِ دین کے ساتھ تعلق کا نتیجہ سرمایہ داری نہیں ہے، ہم سے پہلے جتنے لوگوں نے دین اسلام کے لیے کام کیا، ان کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کریں، اگر وہ خود مال دار نہیں تھے، تو انھوں نے اس شعبے کو مالداری کا ذریعہ بھی نہیں بنایا، گزارے کی زندگی گزار دی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ترقی کے لیے ان کے حصے کو قبول کر لیا۔
حضرات! ذہن نشین کر لیں کہ مساجد و مدارس اور تبلیغِ دین کے ساتھ تعلق کا نتیجہ سرمایہ داری نہیں ہے، ہم سے پہلے جتنے لوگوں نے دین اسلام کے لیے کام کیا، ان کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کریں، اگر وہ خود مال دار نہیں تھے، تو انھوں نے اس شعبے کو مالداری کا ذریعہ بھی نہیں بنایا، گزارے کی زندگی گزار دی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ترقی کے لیے ان کے حصے کو قبول کر لیا۔