الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَعْذَارِ الَّتِي تُبِيحُ التَّخَلُّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ باب: ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
حدیث نمبر: 2478
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ مُؤَذِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِي لِحَافِي فَتَمَنَّيْتُ أَنْ يَقُولَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْهَا فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهُ بِذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ایک ٹھنڈی رات تھی اور میں اپنے لحاف میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا، مجھ میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش مؤذن یہ کہہ دے: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ (ایسے ہی ہوا اور جب) حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ تک پہنچا تو اس نے کہا: اپنی رہائش گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر جب میں نے ان (زائد) الفاظ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تھا۔