الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَعْذَارِ الَّتِي تُبِيحُ التَّخَلُّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ باب: ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
حدیث نمبر: 2477
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نُودِيَ بِالصُّبْحِ فِي يَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِي مِرْطِ امْرَأَتِي، فَقُلْتُ: لَيْتَ الْمُنَادِي قَالَ: مَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ أَذَانِهِ: وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سردی والا دن تھا اور میں اپنی بیوی کی چادر میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں فجر کی اذان ہونے لگی، میں نے کہا: کاش اذان کہنے والا یہ بھی کہہ دے: جو (نماز کے لیے) نہ آئے اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسے ہی ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے اذان کے آخر میں کہا: جو نہ آئے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔