الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ خُصُوصًا الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ باب: جماعت بالخصوص عشاء اور فجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کا بیان
(وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قُرَابُهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ وَفِي النَّاسِ رِقَّةٌ وَهُمْ عِزُونَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَدَا النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوا لَهُ، وَهُمْ يَتَخَلَّلُونَ عَنْ هَٰذِهِ الصَّلَاةِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا فَيَتَخَلَّلَ عَلَى أَهْلِ هَٰذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّلُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ))سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو لوگوں میں قلت تھی اوروہ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غصے میں آگئے اور پھر فرمایا: اگر کوئی آدمی اِن لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو کھروں کی طرف اپنی بستی میں بلائے تو وہ اس کی بات کو ضرور قبول کریں گے۔ یہ لوگ اِس نماز سے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ پیچھے رہ کر (نماز پڑھائے) اور میں ان گھر والوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا دوں ۔