الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَفَضْلِ طَالِبِهِ باب: حصول علم کے لیے سفر کرنے اور طالب علم کی فضیلت کا بیان
عَنْ قَيْسٍ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ بِدِمَشْقَ فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ أَيُّ أَخِي؟ قَالَ: حَدِيثٌ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِتِجَارَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَا قَدِمْتَ لِحَاجَةٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: مَا قَدِمْتَ إِلَّا فِي طَلَبِ هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتانُ فِي الْمَاءِ، وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ))قیس بن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی مدینہ منورہ سے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جو کہ دمشق میں تھے، انہوں نے اس سے پوچھا: ”میرے بھائی! کون سی چیز تجھے لے آئی ہے؟“ اس نے کہا: ”ایک حدیث کی خاطر آیا ہوں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہو،“ انہوں نے کہا: ”کیا تو تجارت کے لیے تو نہیں آیا؟“ اس نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”تو کسی اور ضرورت کے لیے تو نہیں آیا؟“ اس نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”تو صرف اس حدیث کے حصول کے لیے آیا ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں،“ انہوں نے کہا: ”پس بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق عالم کے لیے بخشش کی دعا کرتی ہے، حتیٰ کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی، اور عالم کی عبادت گزار پر اتنی فضیلت ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انہوں نے ورثے میں دینار لیے نہ درہم، بلکہ انہوں نے تو صرف علم وصول کیا ہے، جس نے یہ علم حاصل کیا، اس نے (انبیائے کرام کی میراث سے) بھرپور حصہ لیا۔“