الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ خُصُوصًا الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ باب: جماعت بالخصوص عشاء اور فجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَفِي رِوَايَةٍ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَرَآهُمْ عِزِينَ مُتَفَرِّقِينَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا مَا رَأَيْنَاهُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ: ((وَاللَّهِ! لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا يُؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَتَتَبَّعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي دُورِهِمْ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ))سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت غصے میں آگئے، ہم نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی سخت ناراضگی میں نہیں دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اوران سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں ۔