الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ عَنِ الْجَمَاعَةِ خُصُوصًا الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ باب: جماعت بالخصوص عشاء اور فجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً، فَقَالَ: ((إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ))، فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ، أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِهَا))سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے) ، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔