الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَأْكِيدِهَا وَالْحَثِّ عَلَيْهَا باب: جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
حدیث نمبر: 2460
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَسُئِلَ سُفْيَانُ عَمَّنْ؟ قَالَ: هُوَ مَحْمُودٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ رَجُلًا مَحْجُوبَ الْبَصَرِ وَإِنَّهُ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّخَلُّفَ عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: ((هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمود بن ربیع کہتے ہیں: سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہا ایک نابینا آدمی تھا، اس لیے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز سے پیچھے رہ جانے کا ذکر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو رخصت نہیں دی۔