حدیث نمبر: 246
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، لَمْ يَرِثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرِثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم والے کو عبادت گزار پر اتنی فضیلت حاصل ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انہوں نے ورثے میں درہم و دینار نہیں لیے، بلکہ علم وصول کیا، پس جس شخص نے علم حاصل کیا، اس نے (نبوی میراث سے) بھرپور حصہ لے لیا۔“

وضاحت:
فوائد: … قرآن و حدیث کا علم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث ہے، کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ، جو اس میراث سے بڑی مقدار میں حصہ حاصل کرتے ہیں، لیکن اس موقع میں یہ گزارش ضرور کروں گا کہ اہل علم لوگ اپنی اصلاح کریں، اپنے اندر عاجزی و انکساری پیدا کریں، لوگوں کے سرمائیوں سے مستغنی ہو جائیں، صبر کے ساتھ شب وروز گزاریں، ہم کوئی اصحاب ِ صفہ سے برتر نہیں ہے کہ ہمارے لیے فوراً روسیع روزیوں کے دروازے کھل جائیں اور ان کا علم اُن کے وجود سے جو تقاضے کرتا ہے، وہ ان کو پورا کریں، حقیقی عزت اور بقا اسی شعبے میں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود 3642، والترمذي: 2682، وابن ماجه: 239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22058»