حدیث نمبر: 2459
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ ضَرِيرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول!میں نابینا ہوں اور میرا گھر بھی مسجد سے دور ہے اور میرا ایک قائد تو ہے لیکن وہ میری موافقت نہیں کرتا تو کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تب میں تیرے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2459
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، ابو رزين مسعود بن مالك لم يسمع من ابن ام مكتوم أخرجه ابوداود: 552، وابن ماجه: 792 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15571»