حدیث نمبر: 2458
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ، قَالَ: ((فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ فَأَجِبْ وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا گھر مسجد سے دور ہے، جبکہ میں نابینا بھی ہوں اور اذان بھی سنتاہوں (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اذان سنتا ہے تو اس کا جواب دیا کر، اگرچہ تجھے سرین کے بل گھسٹ کر یا کولہوں کے بل سرک کر آنا پڑے ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2458
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عيسي بن جارية، قال ابن معين: ليس بذاك عنده مناكير، وقال ابوداود: منكر الحديث أخرجه عبد بن حميد: 1148، وابويعلي: 1803، وابن حبان: 2063، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3738 ۔ وقد روي ھذا الحديث عن ابن ام مكتوم نفسه، سيأتي برقم: 1302، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15011»