الفتح الربانی
أبواب صلاة الجماعة— نماز با جماعت کے بارے میں ابواب
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي حُضُورِ الْجَمَاعَةِ فِي الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ باب: فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، قَالُوا نَعَمْ، وَلَمْ يَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) إِنَّ صَلَاتَكَ مَعَ رَجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ مَعَ رَجُلٍ، وَصَلَاتُكَ مَعَ رَجُلٍ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ وَحْدَكَ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى))(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: فلاں شخص موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے ، پھر بعض نے کہا: جی ہاں، وہ حاضر نہیں ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر فجر اور عشاء سب سے بھاری نمازیں ہیں، ( پھر سابقہ روایت کی طرح باتیں ذکر کیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تیری دو آدمیوں کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ ادا کی ہوئی نمازسے زیادہ پاکیزہ ہے اور تیری ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ اتنا ہی اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔