حدیث نمبر: 2454
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دو (عشا اور فجر کی) نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل ہیں، اگر وہ جان لیں ان دونوں کا اجر کیاہے تو وہ ان کی ادائیگی کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو تم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور آدمی کی دو افراد کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ (یعنی زیادہ ثواب والی) ہے، اسی طرح جتنے آدمی زیادہ ہوں گے، وہ نماز اتنی زیادہ اللہ کو محبوب ہو گی ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2454
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 554، والنسائي: 2/ 104 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21587»