الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
فَصْلٌ مِنْهُ فِي قَوْلِهِ ﷺ "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
حدیث نمبر: 245
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((النَّاسُ مَعَادِنُ، فَخَيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ بھی کان ہوتے ہیں، پس جو (خاندان اور قبیلے) جاہلیت کے زمانے میں بہتر شمار کیے جاتے ہیں، وہی زمانۂ اسلام میں بھی بہتر ہوتے ہیں، بشرطیکہ دین میں فقہ اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔“
وضاحت:
فوائد: … جیسے سونے، چاندی اور دوسری قیمتی اور گھٹیاں چیزوںکی کانیں ہوتی ہیں، اسی طرح بعض خاندانوں کے لوگ عمدہ، شریف النفس اور بہادر ہوتے ہیں اور بعض قبیلوں کے لوگ نامرد، گھٹیا اور بخیل قسم کے ہوتے ہیں، لیکن اگر اعلی خاندان والے بھی بے علم اور جاہل ہوں تو پھر خاندانی شرافت سے کچھ نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھٹیا خاندان کا ایک عالم، عالی خاندانوں کے جاہلوں سے بہتر ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام میں علوم شرعیہ کی فقہ اور فہم برتری کی علامت قرار دے رہے ہیں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اس کے وڈیروں نے قرآن و حدیث کے فہم کو عزت کی علامت ہی نہیں سمجھا، ظاہر پرستی اور مادیت پرستی اس قدر غالب آ گئی کہ جس ڈگری کی بنا پر تنخواہ زیادہ ملتی ہے، اس کو اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ بہت کم معاوضے لے کر مساجد اور مدارس میں دینِ اسلام کے لیے خدمات سرانجام دے رہے، ان کو بھی یہی مشورے دیئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے فیلڈ کو تبدیل کر لیں، تاکہ دنیا بہتر ہو جائے۔