حدیث نمبر: 238
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِيمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالُوا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا، فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ مَعَهُمْ فَقَالَ: ((هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئے اور کہا: ”ہمارے پاس ایسا آدمی بھیجیں، جو ہمیں دین کی تعلیم دے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان کو ان کے ساتھ بھیجا اور فرمایا: ”یہ اس امت کا امین ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … اہل یمن کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینے کے لیے امت ِ مسلمہ کے امین اور جلیل القدر صحابی سیدنا ابو عبیدہ کا انتخاب کیا جا رہا ہے، جبکہ اِس صحابی کو یہ منقبت اس کے علم شرعی کی وجہ مل رہی ہے۔ کاش! آج بھی اس حقیقت کا ادراک کر لیا جاتا، ہم ایسے پر فتن دور سے گزر رہے ہیں کہ جس میں امامت، خطابت، اذان، خدمت ِ مسجد، حفظ و ناظرہ کی تعلیم اور قرآن و حدیث کی تدریس کو باعث ِ اعزاز مشغلہ نہیں سمجھا جا رہا، استغفر اللہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب العلم / حدیث: 238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4382، 7255، ومسلم: 2419 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12820»