الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعُلَمَاءِ باب: علم اور علماء کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 235
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ: ((بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو کسی کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے: ”(لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت) خوشخبریاں سنانا اور متنفر نہ کر دینا اور آسانیاں پیدا کرنا اور (دین میں) مشکلات پیدا نہ کر دینا۔“
وضاحت:
فوائد: … داعی کو حکمت و دانائی سے متصف ہونا چاہیے اور ایسا ربّانی ہونا چاہیے، جو لوگوں کے مزاج کو سمجھ کر درجہ بدرجہ ان کی تربیت کر کے ان کو بلندی کی طرف لے جانے والا ہے، شریعت نے خوشخبریاں سنانے، آسانیاں پیدا کرنے، متنفر نہ کرنے اور مشکلات پیدا نہ کرنے کا کوئی کلیہ اور ضابطہ مقرر نہیں کیا، ان سب چیزوں کا انحصار مبلغ کے فہم پر ہے، ہر بندے کا مزاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، کس بندے کو کس انداز میں سمجھایا جائے اور کون سا بندہ کون سی بات کو محسوس کرتا ہے، ان سب امور کا پاس و لحاظ کرنا ضروری ہے، اس ضمن میں انتہائی ضروری بات یہ ہے کہ ایک مسجد یا ادارے کے لوگ مختلف دھڑا بندیوں میں تقسیم نہ ہوں، وگرنہ اصلاح کو دور کر دینے والا فساد پیدا ہو جائے گا۔