الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي هَجْرِ الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ باب: تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 232
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ غَيْلَانَ يَعْنِي الْقَدَرِيَّ مَصْلُوبًا عَلَى بَابِ دِمَشْقَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے غیلان قدری کو دیکھا تھا، اس حال میں کہ اس کو بابِ دمشق پر پھانسی دی ہوئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … غیلان بن ابو غیلان دمشقی پہلا قدَری تھا، اس کا گھر دمشق میں تھا، عمر بن عبد العزیز نے اس کے نظریۂ تقدیر کی وجہ سے اس کی ملامت کی تھی، چنانچہ یہ اس نظریے سے رک گیا تھا، لیکن جب وہ فوت ہو گئے تو اس نے اپنے نظریے کی اشاعت شروع کر دی، یہ باقاعدہ لوگوں کو فتوے دینے لگ گیا اور اس نے ۱۱۶ ھ میں ہشام بن عبد الملک کے ساتھ حج ادا کیا۔ امام اوزاعی کہتے ہیں: ہشام بن عبد الملک کی خلافت کے دوران غیلان قدری ہمارے پاس آیا اور تقدیر کے موضوع پر اس نے گفتگو شروع کر دی، یہ ایک منہ پھٹ شخص تھا، نتیجتاً لوگوں نے اس پر طعن کیا اور ہشام کو اس پر ناراض کر دیا، چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اس کو قتل کرکے سولی پر لٹکا دیا جائے۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۳۵۱)