الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي هَجْرِ الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ باب: تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 230
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَرَّةً عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّهُ بَلَغَنِي تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكْتُبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا شام میں ایک دوست تھا، وہ ان کو خط لکھتا رہتا تھا، ایک دفعہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف یہ بات لکھی: مجھے تمہارے بارے میں یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم نے تقدیر کے مسئلے پر کچھ (ناجائز) گفتگو کی ہے، اس لیے اب مجھے خط لکھنے سے گریز کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے، جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔“