حدیث نمبر: 23
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنَ الْوَسْوَسَةِ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے،“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو خالص ایمان ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ ایک اصولی بات ہے کہ جو آدمی غلط وسوسے کو محسوس کرنے لگے گا اور اس سے ڈرنے لگے گا کہ وہ اس کے تقاضے کے مطابق گفتگو کرے، تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ اس کے اعتقاد میں پختگی اور ایمان میں خلوص اور مضبوطی پیدا ہو گئی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کا مقصود ہے، رہا اس آدمی کا مسئلہ جو فرائض کو ترک کرنے اور محرمات کا ارتکاب کرنے پر تلا ہوا ہو تو شیطان ملعون نے اس بیچارے کو وسوسوں میں ڈال کر کیا کرنا ہے؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوحيد / حدیث: 23
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 8537، وابويعلي: 4649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25259»