الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي هَجْرِ الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ باب: تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 229
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ)) وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَرَّةً: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تم اہلِ قدر (یعنی تقدیر کو جھٹلانے والوں) کی مجلس اختیار کرو اور نہ ان کو حاکم بناؤ (یا ان سے بحث مباحثہ نہ کرو)۔“
وضاحت:
فوائد: … مسائل کا تصفیہ ان کی رائے پر مت رکھو۔یہ حقیقت ذہن نشین کر لیں کہ جب عام مسلمانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں فرقے کے لوگ حق پر نہیں ہیں، لیکن اُن میں ان کے مغالطوں کا جواب دینے کی اہلیت نہ ہو تو انہیں ایسے لوگوں کی مجلسوں سے ہی کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے، مثال کے طور پر مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قادیانیوں کا دعوی بطلان پر مبنی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض سادہ لوح مسلمان ان کے دلائل سے متأثر ہو کر ان کا نظریہ اختیار کر لیتے ہیں، ایسی صورت میں ایسے سادہ مسلمانوں کو اِن لوگوں کی مجالس سے ہی دور رہنا چاہیے۔