حدیث نمبر: 228
عَنْ عَمْرٍو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الْقَدَرِ، قَالَ: وَكَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: ((مَا لَكُمْ تَضْرِبُونَ كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، بِهَذَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ)) قَالَ: فَمَا غَبَطْتُّ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَشْهَدْهُ بِمَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ، أَنِّي لَمْ أَشْهَدْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور لوگ تقدیر کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ یوں لگا کہ انار کا دانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پھٹ گیا ہے (یعنی غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلے والے لوگ ہلاک ہو گئے۔“ سیدنا عبداللہ نے کہا: جس مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تھے، اس میں حاضر نہ ہونے کا اتنا رشک کبھی نہیں ہوا تھا، جو اس مجلس کے بارے میں ہوا کہ کاش میں اس میں موجود نہ ہوتا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے کا مصداق بننے سے بچ جاتا)۔

وضاحت:
فوائد: … تقدیر کے بارے میں غلط نظریات کے مختلف انداز یہ ہیں: اگر ساری چیزوں کے وقوع پذیر ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ تقدیر سے متعلقہ ہے، تو پھر ثواب و عقاب کا کیا تک بنتا ہے؟سوال ہو ا کہ ایک گروہ جنت میں اور ایک گروہ جہنم میں، اس کی کیا حکمت ہے؟ جوا ب دیا گیا: اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اختیار اور قوت دی ہے۔ لیکن کہا گیا کہ ان کو یہ قوت و اختیار اور نیکی یا برائی کرنے کی قدرت کس نے عطا کی ہے؟ تقدیر میںجو کچھ طے پا چکا ہے، بندہ ویسے ہی کرنے پر مجبور ہے، اس کو اپنی پسند یا ناپسند کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ برائیاں کر رہے ہیں تو یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کیا ہے، اس میں ان کا کیا قصور ہے۔ بندے اپنے افعال کے خود خالق ہیں اور سارے کے سارے معاملات از سرِ نو ترتیب پا رہے ہیں، قضا و قدر کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب القدر / حدیث: 228
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6668»