حدیث نمبر: 2278
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا بِلَالُ! حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ؟)) فَقَالَ بِلَالٌ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہا: اے بلال! مجھے اپنے سب سے امید والے عمل کے بارے میں بتاؤ، جو تیرے خیال کے مطابق اسلام میں بڑا نفع مند ہے، کیونکہ میں نے رات کو اپنے آگے تیرے جوتوں کی آواز جنت میں سنی تھی؟ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو میرے نزدیک اسلام میں نفع کے لحاظ سے سب سے زیادہ امید والا ہو،البتہ (یہ عمل ہے کہ) میں رات اور دن کی جس گھڑی میں جب بھی وضو کرتا ہوں، تو اس وضو سے اتنی نماز پڑھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے مقدر میں لکھی ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2278
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1149، ومسلم: 2458 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8403، 9672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9670»