الفتح الربانی
أبواب صلاة الضحى— چاشت کی نماز کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً باب: صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ))سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے (اللہ کی رحمت کی) رغبت رکھتے ہوئے اور (اس کے عذابوں سے) ڈرتے ہوئے نماز پڑھی ہے، میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں تو مجھے عطا کردی ہیں، لیکن ایک کو روک دیا ہے، میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ آزمائے، پس اللہ نے اسی طرح کردیا ہے، پھرمیں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے، پس اس نے اسی طرح کردیا، (میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ) وہ اِن کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔