الفتح الربانی
أبواب صلاة الضحى— چاشت کی نماز کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً باب: صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فَأَقْتَدِيَ بِكَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسٍ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍانس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔