الفتح الربانی
أبواب صلاة الضحى— چاشت کی نماز کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً باب: صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 2267
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَلَسْنَاهُ، قَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: بِدْعَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہدk کہتے ہیں: میں اور عروۃ بن الزبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔