الفتح الربانی
أبواب صلاة الضحى— چاشت کی نماز کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً باب: صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 2265
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: رَأَى أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيُصَلُّونَ صَلَاةً مَا صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَامَّةُ أَصْحَابِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: بے شک یہ لوگ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی اورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عام صحابہ نے۔