الفتح الربانی
أبواب صلاة الضحى— چاشت کی نماز کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً باب: صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 2259
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى مَسْجِدِ قُبَاءٍ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءٍ بَعْدَ مَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا هُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: ((إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ كَانُوا يُصَلُّونَهَا إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد مسجد ِ قبا کے پاس آئے یا مسجد ِ قبا میں داخل ہوئے، تووہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اوابین کی نماز وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی کی وجہ سے جلنے لگتے تھے۔