الفتح الربانی
أبواب صلاة الضحى— چاشت کی نماز کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا وَحُكْمِهَا باب: صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2253
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ أَوْصَانِي بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَّا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ وَسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی، میں ان کو کسی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نصیحت کی کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھوں، وتر کی نماز پڑھ کر ہی سوؤں، اور سفر و حضر میں چاشت کی نماز ادا کروں۔