حدیث نمبر: 2250
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: ((مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ فَكَانَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں سے گفتگو فرما رہے تھے، ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس وقت کھڑا ہو، جب سورج بلند ہوچکا ہو، پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ ایسے ہوجائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے اسی دن جنم دیا ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2250
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابن عم ابي عقيل، أخرجه مسلم: 234، وابوداود: 170 بذكر وجوب الجنة مكان مغفرة الخطايا، ولم يذكرا امر استقلال الشمس ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 121، 17392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 121»