الفتح الربانی
أبواب صلاة الضحى— چاشت کی نماز کے بارے میں ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا وَحُكْمِهَا باب: صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2250
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: ((مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ فَكَانَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں سے گفتگو فرما رہے تھے، ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس وقت کھڑا ہو، جب سورج بلند ہوچکا ہو، پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ ایسے ہوجائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے اسی دن جنم دیا ہو۔