الفتح الربانی
كتاب القدر— تقدیر کے ابواب
بَابٌ فِي هَجْرِ الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ باب: تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 225
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ، أَلَا وَذَكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالزَّنْدِقَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں بھی مسخ ہو گا (یعنی شکلیں بگڑ جائیں گی)، خبردار! یہ تقدیر کو جھٹلانے والوں اور زندیقوں میں ہو گا۔“
وضاحت:
فوائد: … زندیقوں سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو سرے سے ربوبیت اور آخرت کو تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ ہیں جن کے باطن میں کفر ہوتا ہے، لیکن وہ اظہار ایمان کا کرتے ہیں۔