حدیث نمبر: 2246
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَيُّ أُمَّاهْ! أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ سَوَاءً، ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ، قُلْتُ: فَأَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جی! مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتلائیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی ، ان میں دو رکعتیں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے۔ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ روزے رکھیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تسلسل کے ساتھ) روزے ترک کرنے لگ جاتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کر دیں گے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے، سوائے تھوڑے دنوں کے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 738 بذكر صلاته في رمضان، و1156 بذكر صيامه، وانظر الحديث السابق برقم: 1115 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24617»