حدیث نمبر: 2245
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ قَالَ: ((يَا عَائِشَةُ! إِنَّهُ أَوْ إِنِّي تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے،پس تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کر، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے، پر تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیاآپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1147، 2013، ومسلم: 738، ومالك في ’’المؤطا‘‘: 1/ 120، وابوداود: 1341، والترمذي: 439 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24574»