حدیث نمبر: 2242
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيِّ إِنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشَرَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشَرَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ، قَالَ: وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ لَيْلَةَ السَّابِعَةِ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشَرَ وَأَنْتُمْ تَقُولُونَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشَرَ السَّابِعَةَ فَمَنْ أَصْوَبُ؟ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نعیم بن زیاد ابی طلحہ الا نماری سے روایت ہے کہ انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حمص کے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے، کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تئیسویں رات کو ایک تہائی رات تک اور پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستائیسویں کو تو اتنا طویل قیام کروایا کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ہم سحری نہیں کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ہم لوگ سحری کو فلاح کہتے تھے۔ ہم لوگ ساتویں رات سے مراد ستائیسویں رات لیتے ہیں، لیکن تم کہتے ہو کہ تئیسویں رات ساتویں ہے، اب پتہ نہیں کہ کون زیادہ درست ہے، ہم یا تم؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2242
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 3/203 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18402)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18592»