الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبَبِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً فِي الْمَسْجِدِ باب: نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ وَقَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَٰذِهِ، قَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ))، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ، وَقَالَ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ قُلْتُ: مَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُجبیر بن نفیر حضرمی سے مروی ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تئیسویں رات کو) ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوبیسویں رات کو قیام نہ کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیسویں رات کو اتنا طویل قیام کرایا کہ تقریبا آدھی رات گزر گئی۔ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صحابہ نے یہ فرمائش کی کہ اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں باقی رات بھی نوافل پڑھا دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس کے لیے باقی رات کے قیام کا بھی ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھبیسویں رات کو ہمیں قیام نہیں کرایا، البتہ ستائیسویں رات کو قیام کروایا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو (قیام کے لیے جمع ہونے کے لیے) پیغام بھیجا، دوسرے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہم ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج فلاح رہ جائے۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ فلاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا مطلب سحری ہے۔