الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبَبِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً فِي الْمَسْجِدِ باب: نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ يَرُدُّهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ اثْنَيْ عَشَرَ قَالَ: ((إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ))، وَهِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعَشَرَ، فَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعَشَرَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعَشَرَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ أَرْبَعٍ وَعَشَرَ فَقَالَ: ((إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، يَعْنِي لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعَشَرَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُمْ))، فَصَلَّى بِالنَّاسِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعَشَرَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ سِتٍّ وَعَشَرَ قَامَ فَقَالَ: ((إِنَّا قَائِمُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعَشَرَ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ))، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِيَامِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى قُبَّتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ تَقُومَ بِنَا حَتَّى تُصْبِحَ، فَقَالَ: ((يَا أَبَا ذَرٍّ! إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ مَعَ إِمَامِكَ وَانْصَرَفْتَ إِذَا انْصَرَفَ كُتِبَ لَكَ قُنُوتُ لَيْلَتِكَ))، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُّ هَٰذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِشریح بن عبید حضرمی سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیسویں تاریخ کو عصر کی نماز ادا کی تو فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں گے، اس لیے تم میں سے جو قیام کرنا چاہتا ہے، وہ قیام کرے۔ یہ تئیسویں رات بنتی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندھیرا چھا جانے کے بعد عشاء کی نماز باجماعت پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ بیت گیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) چلے گئے۔ جب چوبیسویں رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ قیام کیا اور نہ ہی کچھ ارشاد فرمایا، لیکن جب پچیسویں رات آنی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی چوبیس تاریخ کو عصر کے بعد کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں کے، تم میں جو چاہتا ہے، وہ قیام کرسکتا ہے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا یہاں تک کے رات کا تیسرا حصہ گزرگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) تشریف لے گئے، چھبیسویں رات کو نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا اورنہ کچھ ارشاد فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھبیسویں روز عصر کی نماز ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہم آج رات کوان شاء اللہ قیام کریں گے، پس جو کوئی قیام کرنا چاہتا ہے وہ قیام کرلے۔ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پس ہم نے قیام کرنے کے لیے صبر و استقامت کا اظہار کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی ، یہاں تک کہ رات کا دو تہائی حصہ گزر گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے میں تشریف لے گئے ، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم اس بات کے حریص ہیں کہ آپ ہمیں صبح تک نماز پڑھائیں ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے ابوذر ! جب تو امام کے ساتھ نماز پڑھے گا اور اس وقت واپس جائے گا ، جب امام واپس جائے تو تیرے لیے ساری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جائے گا ۔‘‘ ابو عبد الرحمان کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کو اپنے باپ (امام احمدؑ) کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا پایا ہے ۔