الفتح الربانی
أبواب صلاة الليل والوتر— رات کی نماز اور وتر کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبَبِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً فِي الْمَسْجِدِ باب: نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَثَابَ رِجَالٌ فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الْمُقْبِلَةَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ نَاسٌ كَثِيرٌ حَتَّى كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ اجْتَمَعَ النَّاسُ حَتَّى كَادَ الْمَسْجِدُ يَعْجِزُ عَنْ أَهْلِهِ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ، قَالَتْ: حَتَّى سَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَعروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پس کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر نماز پڑھی، پس جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے گفتگو کی کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسجد میں) نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھی، آنے والی رات میں لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور رات کے درمیانی حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگوں نے صبح کی پس انہوں نے رات کے معاملے میں گفتگو کی، پس تیسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے حتیٰ کہ مسجد والے زیادہ ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پس جب چوتھی رات ہوئی تو لوگ پھر جمع ہوگئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسجد لوگوں سے عاجز آجائے گی، (لوگوں کی کثرت کی وجہ سے) پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں بیٹھ گئے اور مسجد میں نہ نکلے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہاں تک کہ میں نے لوگوں کی آوازیں سنیں وہ کہہ رہے تھے، نماز، نماز پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف نہ نکلے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمد و ثناء کے بعد، پس بے شک تمہاری رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں رہی اور لیکن میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں اس کو تم پر فرض نہ کردیا جائے (اگر تم پر فرض کردی گئی تو)تم اس سے عاجزآجاؤ گے، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، اور یہ رمضان کی بات ہے۔