حدیث نمبر: 2232
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوْتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے، لیکن جب نمازِ وتر ادا کرنے کا ارادہ کرتے تو زمین پر اتر کر وتر ادا کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ سواری پر نمازِ وتر ادا کرنا درست ہے، سابق حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سعید بن یسار کو اس سنت پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی،یہ علیحدہ بات ہے کہ اگر کوئی آدمی سواری سے اتر کر نمازِ وتر ادا کرنا چاہے تو یہ بھی بلاشبہ درست ہے۔
نماز وتر سے متعلقہ مزید کچھ احکام
(۱)قنوتِ وتر: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، اِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، وَاِنَّہٗ لَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ، تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ (ابوداود: ۱۴۲۵) ترجمہ: اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا اور وہ شخص عزت نہیں پا سکتا جس سے تو دشمنی کرے۔ اے ہمار ے ربّ! تو بے حد برکت والا اور بلند و بالا ہے۔
(۲) مروجہ دعا اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ … کو قنوتِ وتر قرار دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کووہ قنوتِ نازلہ مین یہ دعا کرتے تھے۔
(۳) وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوتِ وتر پڑھی جائے۔
(نسائی:۱۷۰۰، ابن ماجہ: ۱۱۸۲)
قنوتِ وتر رکوع کے بعد بھی جائز اور درست ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی کو رکوع کے بعد قنوتِ وتر پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ مستدرک حاکم، نیل الاوطار کے مولف رحمتہ اللہ علیہ نے بھی مستدرک حاکم کی حدیث کو قابلِ حجت قرار دیا ہے۔
اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں: احکام و مسائل، ج ۲، ص: ۲۸۸ از حافظ عبدالمنان نور پوری رحمتہ اللہ علیہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2232
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/429 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4476»